| 1 | ان ہواؤں کی قسم ہے جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجی جاتی ہیں | |
| |
| 2 | پھر ان ہواؤں کی جو تندی سے چلتی ہیں | |
| |
| 3 | اوران ہواؤں کی جو بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں | |
| |
| 4 | پھر ان ہواؤں کی جو بادلوں کو متفرق کر دیتی ہیں | |
| |
| 5 | پھر ان ہواؤں کی جو (دل میں) الله کی یاد کا القا کرتی ہیں | |
| |
| 6 | الزام اتارنے یا ڈرانے کے لیے | |
| |
| 7 | جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور ہونے والی ہے | |
| |
| 8 | پس جب ستارے مٹا دیئے جائیں گے | |
| |
| 9 | اورجب آسمان پھٹ جائیں گے | |
| |
| 10 | اورجب پہاڑ اڑائے جائیں گے | |
| |
| 11 | اور جب رسول وقت معین پرجمع کیے جائیں گے | |
| |
| 12 | کس دن کے لیے تاخیر کی گئی تھی | |
| |
| 13 | فیصلہ کے دن کے لیے | |
| |
| 14 | اور آپکو کیا معلوم کہ فیصلہ کا دن کیا ہے | |
| |
| 15 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 16 | کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا | |
| |
| 17 | پھر ہم ان کے پیچھے دوسروں کو چلائیں گے | |
| |
| 18 | مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں | |
| |
| 19 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 20 | کیا ہم نے تمہیں ایک ذلیل پانی سے نہیں پیدا کیا | |
| |
| 21 | پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھ دیا | |
| |
| 22 | ایک معین اندازے تک | |
| |
| 23 | پھر ہم نے اندازہ لگایا تو ہم تو کیسے اچھے اندازہ لگانے والے ہیں | |
| |
| 24 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیےتباہی ہے | |
| |
| 25 | کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہیں بنایا | |
| |
| 26 | زندوں اور مردوں کو | |
| |
| 27 | اور ہم نے اس میں مضبوط اونچے اونچے پہاڑ رکھ دیئے اور ہم نے تمہیں میٹھا پانی پلایا | |
| |
| 28 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 29 | اس (دوزخ) کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتےتھے | |
| |
| 30 | ایک سائبان کی طرف چلو جسکے تین حصے ہیں | |
| |
| 31 | نہ وہ سایہ کرے اور نہ تپش سے بچائے | |
| |
| 32 | بے شک وہ محل جیسے انگارے پھینکے گی | |
| |
| 33 | گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں | |
| |
| 34 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 35 | یہ وہ دن ہے جس میں بات بھی نہ کر سکیں گے | |
| |
| 36 | اور نہ انہیں عذر کرنے کی اجازت ہو گی | |
| |
| 37 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 38 | یہ فیصلہ کا دن ہے ہم تمہیں اور پہلوں کو جمع کریں گے | |
| |
| 39 | پس اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو مجھ پر کر دیکھو | |
| |
| 40 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 41 | بے شک پرہیزگار ٹھنڈی چھاؤں اور چشموں میں ہوں گے | |
| |
| 42 | اور میووں میں جو وہ چاہیں گے | |
| |
| 43 | مزے سے کھاؤ اور پیئو ان کاموں کے بدلے جو تم کرتے رہے | |
| |
| 44 | بے شک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیتے ہیں | |
| |
| 45 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 46 | کھاؤ اور چند روز فائدہ اٹھاؤ بے شک تم مجرم ہو | |
| |
| 47 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 48 | اورجب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تورکوع نہ کرتے تھے | |
| |
| 49 | اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے | |
| |
| 50 | پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے | |
| |