| 1 | جورڑوں میں گھس کر نکالنے والوں کی قسم ہے | |
| |
| 2 | اور بند کھولنے والوں کی | |
| |
| 3 | اورتیزی سے تیرنے والوں کی | |
| |
| 4 | پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی | |
| |
| 5 | پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والوں کی | |
| |
| 6 | جس دن کانپنے والی کانپے گی | |
| |
| 7 | اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی | |
| |
| 8 | کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے | |
| |
| 9 | ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی | |
| |
| 10 | وہ کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے | |
| |
| 11 | کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے | |
| |
| 12 | کہتے ہیں کہ یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا | |
| |
| 13 | پھر وہ واقعہ صرف ایک ہی ہیبت ناک آواز ہے | |
| |
| 14 | پس وہ اسی وقت میدان میں آ موجود ہوں گے | |
| |
| 15 | کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے | |
| |
| 16 | جب کہ مقدس وادی طویٰ میں اس کے رب نے اسےپکارا | |
| |
| 17 | فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے | |
| |
| 18 | پس کہو کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہو | |
| |
| 19 | اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے | |
| |
| 20 | پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی | |
| |
| 21 | تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی | |
| |
| 22 | پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا | |
| |
| 23 | پھر اس نے سب کو جمع کیا پھر پکارا | |
| |
| 24 | پھر کہا کہ میں تمہارا سب سے برتر رب ہوں | |
| |
| 25 | پھر الله نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا | |
| |
| 26 | بے شک اس میں اس کے لیے عبرت ہے جو ڈرتا ہے | |
| |
| 27 | کیا تمہارا بنانا بڑی بات ہے یا آسمان کا جس کو ہم نے بنایا ہے | |
| |
| 28 | ا سکی چھت بلند کی پھر اس کو سنوارا | |
| |
| 29 | اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کے دن کو ظاہر کیا | |
| |
| 30 | اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا | |
| |
| 31 | اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا | |
| |
| 32 | او رپہاڑوں کو خوب جما دیا | |
| |
| 33 | تمہارے لیے اور تمہارے چار پایوں کے لیے سامان حیات ہے | |
| |
| 34 | پس جب وہ بڑا حادثہ آئے گا | |
| |
| 35 | جس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا | |
| |
| 36 | اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی | |
| |
| 37 | سو جس نے سرکشی کی | |
| |
| 38 | اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی | |
| |
| 39 | سو بے شک اس کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے | |
| |
| 40 | اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتارہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا | |
| |
| 41 | سو بے شک اس کا ٹھکانا بہشت ہی ہے | |
| |
| 42 | آپ سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا | |
| |
| 43 | آپ کو اس کےذکر سے کیا واسطہ | |
| |
| 44 | اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے | |
| |
| 45 | بے شک آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے | |
| |
| 46 | جس دن اسے دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) گویا ہم ایک شام یا اس کی صبح تک ٹھیرے تھے | |
| |